محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو

وہ اپنے کردار کی زبانی

بتائے قرآن کے معانی

اس آئینے میں خدا کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو

سماعتوں پر یقین کرنا

دھوئیں کے اندر ہے رنگ بھرنا

ابد کی آنکھیں بھی جس کو دیکھیں

وہ کُہسارِ ازل کا جھرنا

جبینِ خیرالبشر سے پُھوٹے

یقینِ اہلِ نظر سے پُھوٹے

فنا کے پتلو! بقا کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو

ہزاروں لوگ ایسے محترم ہیں

جو صاحبِ خامہ و عَلم ہیں

وہ خاکِ پا بھی نہیں نبی کی

وہ سب اکٹھے بھی اُس سے کم ہیں

بڑے بڑوں سے بھی وہ بڑا ہے

افق کے منبر پہ وہ کھڑا ہے

خطیبِ ارض و سما کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو

وہ دستِ رحمت دراز رکھے

نگاہِ عالم نواز رکھے

گناہ سے اپنے اُمتی کو

وہ خلوتوں میں بھی باز رکھے

دریچہء روح سے وہ جھانکے

کُھلے ہیں در اُس پہ ہر مکاں کے

مکینِ دارالہدٰی کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو

ہر ایک سانس اُس کی زندگی کا

ہے ایک مینار روشنی کا

جریدہء وقت پر رقم ہے

ہر ایک لمحہ میرے نبی کا

اگر کوئی ذات دائمی ہے

تو صرف میرے حضور کی ہے

ہر اک صدی کی صدا کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو

ہر ایک فرزندِ ارضِ خاکی

رہا پناہوں میں مصطفےٰ کی

کوئی کہیں کا، کوئی کہیں کا

نہ کوئی بددل، نہ کوئی شاکی

جو درسگاہِ نبی سے نکلے

غلام بھی شاہ بن کے نکلے

معلمِ ارتقاء کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو

قدم اُٹھائے جہاں پہ رکھ کر

چراغ سے ہر نشاں پی رکھ کر

کھلائے کَوڑی کو بھی وہ حلوہ

خود اپنی نوکِ زباں پہ رکھ کر

زمانہ لائے نظیر اُس کی

فلاحِ انساں فقیر اُس کی

کمال ہے جس ادا کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰٰ کو دیکھو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]