مدینے جو چلنے کا وقت آرہا ہے

گناہوں کے دُھلنے کا وقت آرہا ہے

طلا ہوں محمد کے روضے کی جانب

کہ قسمت چمکنے کا وقت آرہا ہے

قدم بہ قدم دل مچلتا ہے میرا

مدینے میں بسنے کا وقت آرہا ہے

وہ چھائیں گھٹائیں، گھٹا ٹوپ سر پر

کہ رحمت برسنے کا وقت آرہا ہے

شفا مجھ کو خاک مدینہ سے ہوگی

شفایاب ہونے کا وقت آرہا ہے

میں آقا کے در سے نہ جاؤں گا خالی

کہ جھولی بھرنے کا وقت آرہا ہے

گدائی ملے گی نصیر اُن کے در کی

مدینے میں رہنے کا وقت آرہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]