مشہور و معروف شاعر بیخودؔ بدایونی کا یوم پیدائش

آج مشہور و معروف شاعر بیخودؔ بدایونی کا یوم پیدائش ہے

بیخودؔ بدایونی کا اصل نام محمد عبد الحئی صدیقی تھا۔ آپ 17 ستمبر 1857ء کو بدایوں کے ایک صوفی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُس زمانے کے رواج کے مطابق بے خود نے پہلے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکیل کی حیثیت سے مراد آباد اور شاہجہان پور میں کام کیا۔ پھر وکالت سے اکتا کر سرکاری نوکری سے وابستہ ہوئے اور سروہی (راجستھان) اور جودھپور میں خدمات انجام دیتے رہے۔
بیخودؔ بدایونی انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کی ابتداء کے ممتاز شعراء میں شامل ہیں۔ انہوں نے شاعری میں پہلے الطاف حسین حالی، پھر داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی۔ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ جودھپور میں بسر کرنے کے باعث وہ اردو ادب کے مراکز دہلی اور لکھنؤ سے دور رہے، اور غالباً اسی وجہ سے انکی شاعری بہت عام نہ ہو سکی۔ طویل عرصے تک طبع نہ ہونے کی باعث انکے بہت سے اشعار کو مختلف شعراء نے اپنی تخلیق کے طور پر پیش کیا، اور ان کے بہت سے کلام کو بے خود دہلوی اور کچھ اور شعراء کے کلام سے بھی منسوب کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر لیاقت علی عاصمؔ کا یومِ وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے خود بدایونی غزلیات، حمد و نعت اور رباعیات کے شاعر تھے۔ محبت، فلسفہ، تصوف اور اسلام انکی شاعری کا موضوع تھا۔ اُن کی چار کتب “ہوش و خرد کی دکان”، “صبر و شکیب کی لُوٹ”، “مرآۃ الخیال” اور “افسانۂ بے خود” کے نام سے شائع ہوئیں۔
10 نومبر 1912ء کو بے خود کا بدایوں میں انتقال ہوا اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردے سے پوچھتے ہو ترا دل کہاں ہے اب
پہلو میں میرے آؤ تو کہہ دوں یہاں ہے اب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں

کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیر و حرم کو دیکھ لیا خاک بھی نہیں
بس اے تلاشِ یار نہ در در پھرا مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا
حسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہوا
وہ میری آہ جو شرمندہء اثر نہ ہوئی
وہ میرا درد جو منت کش دوا نہ ہوا
خیال میں رہیں صورتیں عزیزوں کی
وطن سے چھوٹے ہوۓ اس قدر زمانہ ہوا
وہ داغ جس کو جگہ دل میں دی تھی جیتے جی
چراغ بھی تو ہمارے مزار کا نہ ہوا
پری وشوں کو سناتے ہیں قصہ خواں بیخودؔ
ہمارا حال نہ ٹھہرا کوئی فسانہ ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں
درد جس میں نہیں جگر ہی نہیں
لوگ کہتے ہیں وہ بھی ہیں بے چین
کچھ یہ بے تابیاں ادھر ہی نہیں
دل کہاں کا جو درد دل ہی نہ ہو
سر کہاں کا جو درد سر ہی نہیں
بے خبر جن کی یاد میں ہیں ہم
خیر سے ان کو کچھ خبر ہی نہیں
بیخودؔ محو و شکوہ ہاۓ عتاب
اس منش کا تو وہ بشر ہی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حشر پر وعدہء دیدار ہے کس کا تیرا
لاکھ انکار اک اقرار کس کا تیرا
نہ دوا سے اسے مطلب نہ شفا سے سروکار
ایسے آرام میں بیمار ہے کس کا تیرا
لاکھ پردے میں نہاں شکل ہے کس کی تیری
جلوہ ہر شے سے نمودار ہے کس کا تیرا
اور پامال ستم کون ہے تو ہے بیخودؔ
اس ستم گر سے سروکار ہے کس کا تیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہے
یہ کیا کر رہے ہو یہ کیا ہو رہا ہے
دعا کو نہیں راہ ملتی فلک کی
کچھ ایسا ہجوم بلا ہو رہا ہے
وہ جو کر رہے ہیں بجا کر رہے ہیں
یہ جو ہو رہا ہے بجا ہو رہا ہے
وہ نا آشنا بے وفا میری ضد سے
زمانے کا اب آشنا ہو رہا ہے
چھپاۓ ہوۓ دل کو پھرتے ہیں بیخودؔ
کہ خواہاں کوئی دل ربا ہو رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا
ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا
ہزار شکر وہ عاشق تو جانتے ہیں مجھے
جو کہتے ہیں کہ ترا دل کہیں ضرور آیا
جو با حواس تھا دیکھا اسی نے جلوہء یار
جسے سرور نہ آیا اسے سرور آیا
خدا وہ دن دکھاۓ کہ میں کہوں بیخودؔ
جناب داغؔ سے ملنے میں رام پور آیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

کنزا جاوید کی نئی کتاب 2026 میں کیوں مقبول

کنزا جاوید کی نئی کتاب 2026 میں پاکستانی ادب کا سب سے بڑا موضوع کیوں بنی

پاکستانی ادبی منظرنامہ 2026 میں ایک غیر معمولی بحث کا مرکز بن گیا جب کنزا جاوید کی نئی کتاب منظرِ عام پر آئی۔ ریلیز کے چند ہی ہفتوں میں یہ ناول ادبی حلقوں، سوشل میڈیا، جامعات اور بک کلبز میں زیرِ بحث آ گیا۔ ناقدین نے اسے جدید پاکستانی ناول کی نئی جہت قرار دیا […]

معروف شاعر جرم محمد آبادی کا یومِ وفات

آج معروف شاعر جرم محمد آبادی کا یومِ وفات ہے (پیدائش: 4 فروری، 1903ء- وفات: 15 جنوری، 1980ء) ———- جرم کا اصل نام ابوالحسن تھا اور تخلص جرم جبکہ شہرت جرم محمد آبادی سے پائی- 4 فروری 1903 کو جرم محمد آباد ضلع اعظم گڑھ کے قصبے محمد آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتداء میں سامری […]