نعت رسول مقبول ﷺ
مَر بھی جائے تو تری بات سے جی اُٹھتا ہے
دل ہے مداح تری نعت سے جی اُٹھتا ہے
تیرا انعام فزوں ہے، ترا احسان رفیع
کہ گدا اپنے سوالات سے جی اُٹھتا ہے
رات کے پچھلے پہر دیدۂ حیرت کے قریں
ایک لمحہ ہے جو لمعات سے جی اُٹھتا ہے
نعت گو، جذب سے بُنتا ہے فقط حرفِ نیاز
خامہ پھر تیری عنایات سے جی اُٹھتا ہے
آنکھ ہے، جس کو کہ ہے صبحِ کرم کی خواہش
خواب تو وصل کی بس رات سے جی اُٹھتا ہے
شوق اِک ہجر زدہ مرگ کا سنسان وجود
خواہشِ دید کی خیرات سے جی اُٹھتا ہے
دل بہت دیر سے ہے جیسے کہ بے نُور چراغ
اِک عنایت کہ ترے ہات سے جی اُٹھتا ہے
اوڑھ لے کوئی اگر تیری طلب کا احرام
زیست کی سرحدِ میقات سے جی اُٹھتا ہے
کیا عجب ہے تری آمد کا یہ احساسِ دروں
وصل کے نور خیالات سے جی اُٹھتا ہے
اُن کی مدحت کا ہے مقصود جُداگانہ نصاب
حرف خود شوخئ نغمات سے جی اُٹھتا ہے
مقصود علی شاہ