مَیں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہو گئی

روح مردہ تھی لیکن مجھے یوں لگا زندگی ہو گئی

پھر سحابِ کرم سے خزاؤں میں بھی پھول کھلنے لگے

دیکھ کر سبز گنبد بہاروں سے بس دوستی ہو گئی

ہے مرے واسطے تو یہ روشن مدینہ ہی روشن جہاں

چاند یثرب سے اُبھرا تو چاروں طرف چاندنی ہو گئی

آپ علم و محبت کا پیغام لے کر جو آئے تو پھر

بس وہ ظلمت جہالت جہاں میں بہت اجنبی ہو گئی

میرا ماتھا چمکنے لگے گا میں خود بھی نکھر جاؤں گی

دھول شہرِ نبی کی جبیں پر اگر دائمی ہو گئی

تھی جو اک کیفیت رنج اور درد کی کب سے گھیرے ہوئے

مجھ پر اُن کے کرم کی نظر جو پڑی وہ خوشی ہو گئی

آپ کی شان کے لفظ ملتے نہ تھے میں پریشان تھی

آپ نے لفظ بھیجے تو آقا مری نعت بھی ہو گئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]