نبی کے عشق کا دل میں چراغ لے کے چلے

رہِ بہشت کا مثبت سراغ لے کے چلے

در اُن کا منبعِ بارانِ لطف و رحمت ہے

کرم کی آس پہ ہم بھی ایاغ لے کے چلے

حضور چاہیں تو ہر داغ صاف ہو جائے

ہم اپنا دامنِ دل داغ داغ لے کے چلے

طلسمِ گنبدِ خضریٰ کا کیا اثر کہئے

درونِ روح بھی اک سبز باغ لے کے چلے

سرور و کیف ہے اب لفظ لفظ میں شامل

درِ حضور سے ایسا بلاغ لے کے چلے

بسر ہو مدحتِ خیر البشر میں عمر تمام

ہے فخر ہم کو یہ حسنِ فراغ لے کے چلے

ہر ایک فکر سے آزاد ہو گئے ہیں یہاں

غلام آقا سے وہ انفراغ لے کے چلے

پلٹنا طیبہ سے با چشمِ نم بسوزِ جگر

غمِ فراق کا ساتھ اپنے داغ لے کے چلے

یہ فیضِ نورِ درِ مصطفیٰ ہے ہم عارف

دلِ منوّر و روشن دماغ لے کے چلے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]