کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا

نزاکت کا، نفاست کا فصاحت کا بلاغت کا

شہِ کونین کا دل عہدِ طفلی ہی سے تھا مخزن

ریاضت کا، عبادت کا، محبت کا، قناعت کا

خدا نے سب سے پہلے کر رکھا تھا خاتمہ شہ پر

نبوت کا، رسالت کا، ہدایت کا، شفاعت کا

نبی اُمّی نے سکھلایا سبھوں کو قاعدہ آ کر

اطاعت کا، امارت کا، ریاست کا، سیاست کا

سنایا غازیانِ صف شکن کو شاہ نے مژدہ

قیادت کا، بشاشت کا، سعادت کا، شہادت کا

بڑھے پھر کیوں نہ دینِ مصطفٰے ہے وعدہ خالق

حفاظت کا، حمایت کا، اعانت کا، اشاعت کا

خدا نے ذاتِ احمد کو کیا کاملِ عجب دریا

شرافت کا، صداقت کا، سخاوت کا، شجاعت کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]