ہجوم رنگ ہے میری ملول آنکھوں میں

بسا ہےجب سے ریاضِ رسول آنکھوں میں

تصورات کے صحرا میں وہ حرم ابھرا

کھلے گلاب میری دھول دھول آنکھوں میں

فضائے فکر و نظر دُھل کے ہوگئی اُجلی

ہوا وہ رحمتِ حق کا نزول آنکھوں میں

کہیں جو حد سے بڑھا میرا حبسِ محرومی

امڈ پڑا وہیں ابرِ قبول آنکھوں میں

غم حیات ، غم عاقبت ،غم فرقت

ہوا ہے کتنے غموں کا شمول آنکھوں میں

ہری کرے گا وہی شاخ آرزو تائب

کھلائے جس نے عقیدت کے پھول آنکھوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]