آئینے ہم نے دیکھ لئے صبح وشام کے

سب عکس بے مثال ہیں خیرالانام کے

وہ لوگ سیل کے وقت سے آگے نکل گئے

چلتے رہے جو دستِ شفاعت کو تھام کے

دشمن لہو کو امن کی پوشاک کر دیا

خنجر تمام توڑ دیئے انتقام کے

اُن کو پکار کے بڑی آسودگی ملی

وہ جانتے ہیں رنگ شکستہ کلام کے

سورج کے رنگ ماہ و ستارہ کے آئینے

موسم وہاں عجیب ہیں دیوار وبام کے

دہلیز مصطفیٰ کی طلب میں چلا ہوں میں

میں نے بجھا دیئے ہیں چراغ اپنے نام کے

جن کو شعورِ ذات ملا ہے حضور سے

دروازے اُن پہ کھل گئے شہرِ دوام کے

کوئی خدا کو دیکھنا چاہے تو دیکھ لے

چہرے پر اُن کے عکس ہیں حُسنِ تمام کے

اُن کی محبتوں کے لیے عمر چاہیے

جاذب یہ راستے نہیں دو چار گام کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]