الٰہی بخش دے یوں دل کو جستجوئے رسول

کہ ہر گھڑی ہو تصور میں میرے روئے رسول

کشاں کشاں لئے جاتی ہے مجھ کو سوئے رسول

ملانے خاکِ مدینہ میں آرزوئے رسول

کرم سے اپنے بلاتے ہیں مجھ کو طیبہ میں

وگرنہ مجھ سا گنہگار اور کوئے رسول

نثار کیوں نہ ہو دل ہر گلی پہ طیبہ کی

مہک رہی ہے لئے خود میں مشکبوئے رسول

خدا کرے یہی سامانِ مغفرت ہو جائیں

رواں ہیں اشکِ ندامت جو روبروئے رسول

یہ عشق خود انہیں جنّت میں لے گیا ہوگا

کفن میں لے گئے جو اپنے ساتھ موئے رسول

برائے بخششِ امّت وہ گریہ و زاری

یہ انتہائے کرم ہے کہ شست و شوئے رسول

میں بھول جاؤں گا کیا شئے ہے تشنگی عارفؔ

عطا پہ حشر میں مائل جو ہو سبوئے رسول

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]