ان کی نگاہ لطف کا سایہ نظر میں ہے

دیکھوں گا میں بھی دھوپ کہاں تک سفر میں ہے

اب نور، مصطفیٰ کا ہماری نظر میں

کیا خوف تیرگی کا، اجالا تو گھر میں ہے

ٹپکا جو میری آنکھ سے کھل جائے گا بھرم

آقا کرم کے اشک ابھی چشمِ تر میں ہے

محسوس ہو رہا ہے کہ جنت ہے اردگرد

کتنا سکون الفتِ خیرالبشر میں ہے

میرے رسول باعثِ تخلیقِ کائنات

ہر ذرہ کائنات کا ان کے اثر میں ہے

پھرتی ہے مجھ کو ان کی تمنا لیے ہوئے

رہ رہ کے ساتھ ساتھ ہی منزل سفر میں ہے

ظاہر ہوئی زمیں سے مگر عرش تک گئی

کس شان کی تجلی لباسِ بشر میں ہے

ہمت نہیں مزارِ مقدس کو دیکھ لیں

دیدار کی تڑپ تو ہماری نظر میں ہے

جامی جو حسن چہرہ سرکار میں ملا

وہ نور شمس میں نہ تجلیِ قمر میں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]