اندازِ کرم بھی ہے جدا شانِ عطا بھی

اس در کا گدا شاہ بھی ہے اور گدا بھی

آتی ہے ہر اک گام پہ خوشبوئے محمد

جنت کی ہوا ہے یہ مدینے کی ہوا بھی

ہے فخر کہ سر آپ کے دربار میں خم ہے

جنّت بھی ہے یہ مرکزِ اربابِ وفا بھی

دیدار جو ہو جائے تو معراج ہے اپنی

کچھ کم نہیں مل جائے جو نقشِ کفِ پا بھی

میثاقِ شفاعت دیا سرکار نے ہم کو

جاتے ہیں زیارت کو تو پاتے ہیں جزا بھی

ممنونِ کرم ہوں مجھے قدموں میں رکھا ہے

مدفن کے لئے چاہئے تھوڑی سی جگہ بھی

ہے صاف طفیل ان کے مکافاتِ عمل سب

ورنہ کوئی پڑھ پایا ہے قسمت کا لکھا بھی

سمجھے جو فنا ہونے لگے عشق میں ان کے

دراصل بقا ہے جسے کہتے ہیں فنا بھی

بیمارِ غمِ عشق کو کیا کام دوا سے

یہ درد ہے جو درد بھی ہے اور دوا بھی

نام ان کا جو لیتا ہوں تو ٹلتی ہیں بلائیں

یہ میرا وظیفہ بھی ہے اور ردِّ بلا بھی

کیا نذر کریں خدمتِ سرکار میں عارفؔ

صدقہ تو اُنہی کا ہے جسے اپنا کہا بھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]