بھٹکے ہیں بہت رہگذرِ نور سے ہٹ کر

کھو بیٹھے ہیں توقیر، تیری ذات سے کٹ کر

حال اپنا ہے تیرے کرمِ خاص کا محتاج -اے صاحبِ معراج

صد شکر! نگاہوں میں فقط اب ترا در ہے

پستی کے مکینوں کی بلندی پہ نظر ہے

واماندہء منزل کی ترے ہاتھ میں ہے لاج – اے صاحبِ معراج

دنیا نمودار ہو پھر صبحِ سعادت

قائم ہو زمانے میں شریعت کی حکومت

اپنائیں سب اقوام ، ترے دین کا منہاج۔ اے صاحب معراج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]