تازہ خیال میں ہوں قُباؔ اور قبلتینؔ

جب رو برو ہو مسجدِ میقات اے خدا

جمعہؔ، اجاجہؔ، رایہؔ، غمامہؔ، سی مسجدیں

مجھ کو عطا کریں نئی راحات اے خدا

سیراب قلب و جاں ہوں سرِ وادئ عقیق

نکلیں تمام قلب کی حسرات اے خدا

کہفِ بنی حرام کے آثار ڈھونڈتے

خندق کے روبرو ہوں نشانات اے خدا

کہفِ بنی حرام کے آثار ڈھونڈتے

خندق کے روبرو ہوں نشانات اے خدا

ہو جنتِ بقیع میں اس طور حاضری

زیبِ جبیں ہوں طیبہ کے ذرات اے خدا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]