جانے کب اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا

سامنے آنکھ کے کب گنبدِ خضرا ہوگا

دیکھئے ملتا ہے کب اذنِ حضوری مجھ کو

جانے کب میرا سفرِ جانب بطحا ہوگا

جو بھی سرکار کے دامن سے ہوا وابستہ

وہ کبھی محفلِ دنیا میں نہ رسوا ہوگا

کب میں دیکھوں گا وہ روضے کی سنہری جالی

کب مقدّر میں مرے وقت سنہرا ہوگا

محفلِ نعت اسی طرح سجائے رکھئے

ایک دن سرورِ کونین کا پھیرا ہوگا

ہے یقیں وہ کبھی رحمت سے نہ ہوگا محروم

جس نے سرکارِ دو عالم کو پکارا ہوگا

نامِ سرکار ہے سرمایۂ دین ودنیا

زیرِ مدفن بھی یہی نام وظیفہ ہوگا

جب نقابِ رُخ روشن وہ اُٹھے گی یامین

بزمِ کونین میں ہر سمت اُجالا ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]