جُز آپ کے اے شاہِ رسولاں نہیں دیکھا

طالب ہے خدا جس کا وہ انساں نہیں دیکھا

قرآن میں اللہ نے تعریف کی ان کی

ہے کون جسے ان کا ثناء خواں نہیں دیکھا

نفرت ہو جسے ذکرِ شہنشاہِ زمن سے

ایسا تو کوئی ہم نے مسلماں نہیں دیکھا

جس دل میں نہیں سرورِ عالم کی محبت

شاداں نہیں دیکھا اسے شاداں نہیں دیکھا

کیوں عظمتِ سرکار سے انکار ہے تجھ کو

منکر یہ بتا تونے کیا قرآں نہیں دیکھا

کیا آئیں نظر اس کو بَھلا عرش کے جلوے

جس نے کہ درِ سرورِ ذیشاں نہیں دیکھا

ثابت ہی قدم رہتے ہیں اَفکار واَلم میں

بس اُن کے غلاموں کو پریشاں نہیں دیکھا

واللہ شفیق امتِ عاصی کے وہی ہیں

اُمًت کا کوئی اور نگہباں نہیں دیکھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]