مدینہ کی بہاروں سے سکونِ قلب مِلتا ہے

اسی کے لالہ زاروں سے سکونِ قلب مِلتا ہے

وہ جن سے عازمینِ طیبہ روز وشب گزرتے ہیں

مجھے ان رہگذاروں سے سکونِ قلب مِلتا ہے

جو مجھ کو سرورِ کونین کی باتیں سناتے ہیں

مجھے ان میرے پیاروں سے سکونِ قلب مِلتا ہے

جہاں نامِ نبی پر جان دینے والے سوتے ہیں

مجھے ایسے مزاروں سے سکونِ قلب مِلتا ہے

وہ مکّہ ہو مدینہ ہو کہ شہرِ قدُس کی گلیاں

عقیدت کے دیاروں سے سکونِ قلب مِلتا ہے

جو صحراؤں سے اٹھ کر وادی رحمت کو جاتے ہیں

اُن اونٹوں کی قطاروں سے سکونِ قلب مِلتا ہے

منیر! اکثر میں تنہائی میں نعتیں گنگناتا ہوں

کہ مجھ کو ان سہاروں سے سکونِ قلب مِلتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]