مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں

کبوتر نعت پڑھتے ہیں نظارے داد دیتے ہیں

میں پانی پر جو انگلی سے نبی کا نام لکھتا ہوں

مچل کر مجھ کو دریا کے کنارے داد دیتے ہیں

یہ کس نے لحن داؤدی میں چھیڑی نعت آقا کی

ہوائیں رقص میں ہیں چاند تارے داد دیتے ہیں

نبی کا ذکر کرنے کا مزا ہی اور ہوتا ہے

علی و فاطمہ کے جب دلارے داد دیتے ہیں

سلیقے سے جو شاعر مدحت سرکار میں برتے

دعائیں دیں کنائے ، استعارے داد دیتے ہیں

نبی کے ذکر کی محفل سجاتا ہوں تصور میں

برس کر دشت دل پر ابر پارے داد دیتے ہیں

نبی کی رحمتوں کا ذکر جب ہوتا ہے محفل میں

یتیم و بیکس و نادار سارے داد دیتے ہیں

رسول پاک جب ذکر خدا کرتے ہیں اے یاور

کلام پاک کے جتنے ییں پارے داد دیتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]