معذرت

میں کہ اجداد کی ارواح سے شرمندہ ہوں

سخت نادم ہوں کہ میں لاج نہیں رکھ پایا

اُس لہو کی ، کہ رگ و پے میں رواں ہے میرے

اُس شباہت کی ، کہ صورت میں نہاں ہے میری

اُس فصاحت کی ، کہ بنیادِ سخن ٹھہری ہے

اُس تغزل کی ، کہ جو طرزِ بیاں ہے میری

وہ بڑے لوگ تھے اور دل بھی بڑا رکھتے تھے

ننگِ اسلاف ہوں، کم بخت ہوں ، ناکام ہوں میں

وہ تو اعجاز تھے قدرت کی فیاضی کا مگر

ان کے کندن کے مقابل پہ مسِ خام ہوں میں

میں وہ کم بخت ، کہ اک بارِ امانت نہ اُٹھا

خود بھی ناکام رہا ، ان کو بھی ناکام کیا

اس تواتر سے گرا ہوں میں سرِ راہِ جہاں

میرا کیا نام تھا بس ان کو ہی بدنام کیا

معرکہ گاہِ زمانہ میں فنا کے ہاتھوں

میں شکستوں پہ شکستیں ہی لیے جاتا ہوں

ڈھیٹ ایسا ہوں کہ ہر بار پلٹ آتا ہوں

موت سے خوف زدہ ہو کے جیے جاتا ہوں

وہ بڑے لوگ تھے اور دل بھی بڑا رکھتے تھے

اس قدر حوصلے ،جتنے کہ خداؤں میں نہیں

ان کے حالات سے نسبت بھی کہاں کی ، کہ انہیں

مسئلے بھوک کے رہتے تھے ، وفاؤں کے نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

ادھ کھلی گرہ

میں اساطیر کا کردار نہ ہی کوئی خدا میں فقط خاک کے پیکر کے سوا کچھ نہ سہی میری تاویل ، مرے شعر، حکایات مری ایک بے مایہ تصور کے سوا کچھ نہ سہی میری پروازِ تخیل بھی فقط جھوٹ سہی میرا افلاکِ تصور بھی قفس ہو شاید میرا ہر حرفِ وفا محض اداکاری ہے […]

بے دلی

وضاحتوں کی ضرورت نہیں رہی ہے کہ اب بطورِ خاص وضاحت سے ہم کو نفرت ہے جو دستیاب ہے بس اب وہی حقیقت ہے جو ممکنات میں ہے وہ کہیں نہیں گویا برائے خواب بچی ہے تو دست برداری فنونِ عشق پہ حاوی فنا کی فنکاری محبتوں کے تماشے بہت ہوئے اب تک دلِ تباہ […]