منزلِ راہِ عشق کا ہم کو پتہ دیا کہ یوں

آقا نے اپنے لطف سے رستہ دکھا دیا کہ یوں

سربستہ جو نکات تھے اُن سب کی شرح ہو گئی

پردہ ہر ایک راز سے یکسر اُٹھا دیا کہ یوں

حیراں تھے سب بلندی و پستی ہوں ساتھ کس طرح

شاہ و گدا کو آپ نے ساتھ میں لا دیا کہ یوں

محکم ہے ربط خالق و مخلوق میں تو آپ سے

عالمِ ناشناس کو درسِ وفا دیا کہ یوں

رب نے بتائی آپ کی چوکھٹ کی شان و مرتبت

روضہء خلد کو وہیں لا کر بسا دیا کہ یوں

وجہِ سرورِ بندگی پوچھا کسی نے مجھ سے جب

سنگِ درِ نبی پہ سر میں نے جھکا دیا کہ یوں

ہم انتہائے قرب کی منزل پہ یوں پنہچ گئے

پاس بلایا پھر ہمیں در پر بٹھا دیا کہ یوں

جود و سخا کہیں اِسے بذل و عطا کہیں اِسے

جتنی طلب تھی قلب میں اُس سے سوا دیا کہ یوں

بخشش کی فکر تھی ہمیں عرصۂ حشر میں مگر

جلوہ گری نے آپ کی مژدہ سنا دیا کہ یوں

آقا سے مجھ غُلام کی نسبت بیان ہو تو کیا

نعتِ نبی میں حالِ دل لکھ کر بتا دیا کہ یوں

عارفِؔ بے نوا کی اِس طرزِ نوا کی دھوم ہے

آپ کے در سے کیا ملا آپ نے کیا دیا کہ یوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]