نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے
میں وابستہ ہوں دامانِ نبی سے
وہ میرے ہیں میں دیوانہ ہوں اُن کا
یہ کہتا پھر رہا ہوں میں سبھی سے
مری نسبت ہی سرمایہ ہے میرا
یہی پایا ہے میں نے زندگی سے
مئے عشقِ نبی سے مست یوں ہوں
نہ نکلوں عمر بھر اس بے خودی سے
وہی کردینگے کشتی پار میری
بندھی اُمید ہے میری اُنہی سے
نویدِ موت طیبہ میں جو آئے
تو مر جاؤں مسرّت سے خوشی سے
جو اُن کے ہو گئے عارفؔ وہ گویا
فرشتے ہو گئے ہیں آدمی سے