وہاں مصطفی کو بلایا گیا

جہاں اور کوئی نہ آیا گیا

مرے دل کی خوش بختیاں دیکھیے

اسے نعت سے جگمگایا گیا

بصارت کو معراج حاصل ہوئی

نبی جی کا روضہ دکھایا گیا

دو عالم کے والی کے دربار میں

غریبوں کا رتبہ بڑھایا گیا ۔

مرا اس وسیلے پہ ایمان ہے

مجھے ہر غمی سے بچایا گیا ۔

جہاں دشت میں امتی تھے وہاں

کرم والا خیمہ لگایا گیا

درودوں کی خوشبو کی ترسیل کو

دہن والا غنچہ کھلایا گیا

جہاں موجِ سرکش مقابل ہوئی

وہیں ہم کو ساحل دکھایا گیا

زمیں پر جو جنت مدینے میں ہے

مجھے بھی وہیں پر بٹھایا گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]