پہنچے ہیں بابِ خلد پہ کوئے بتاں سے ہم

نازاں ہیں آ گئے ہیں کہاں پر کہاں سے ہم

وابستہ دل سے ہو گئے اس آستاں سے ہم

جائیں تو کیسے لوٹ کے جائیں یہاں سے ہم

تسکینِ قلب راہِ مدینہ میں یوں ملی

گزرا کئے ہوں جیسے کسی کہکشاں سے ہم

مت پوچھئے کہ اُن کی غلامی میں کیا ملا

آزاد ہوگئے ہیں غمِ دو جہاں سے ہم

ہم بیکسوں کے ملجا و ماویٰ وہی تو ہیں

صد شکر منسلک ہیں شہہِ بیکساں سے ہم

اب ہم ہیں اور منزلِ عینِ یقین ہے

آقا کے ہو کے دور ہیں وہم و گماں سے ہم

رحمت پہ اُن کی اپنا ہے ایمان اس لئے

پا کر غمِ حیات ہیں یوں شادماں سے ہم

اُن کی نگاہِ لطف کے ہیں منتظر مگر

نالاں نہیں ہیں شدّتِ دردِ نہاں سے ہم

مدحت میں اُن کی وقف ہماری زبان ہے

پاتے رہے ہیں فیض یہ عمرِ رواں سے ہم

نسبت ہماری رنگ وہ لائے جہان میں

اُن کے ہیں سارے جان لیں گزریں جہاں سے ہم

عارف ہے رہنمائی میسر حضور کی

ہر رہگزر میں آگے ہیں ہر کارواں سے ہم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]