دل ہم سے مقتضی ہے ثنائے حضور کا

ہم تک رہے ہیں نور چراغِ شعور کا ذکر آ گیا زباں پہ مری آں حضور کا عالم عجیب دل میں ہے کیف و سرور کا میثاق انبیاء سے وہ ربِ غفور کا چرچا ہوا ازل ہی سے ان کے ظہور کا صورت ہے ان کی آئینۂ حسنِ لم یزل سیرت پہ انعکاس ہے قرآں […]

ثنا ہے لب پہ شاہِ دوسرا کی

سراپا جو کہ ہے رحمت خدا کی زہے سیرت محمد مصطفیٰ کی کہ خود ربِ دو عالم نے ثنا کی بیاں کیا ذاتِ اقدس کی ہو پاکی کہ اس نے سیر کی عرشِ عُلا کی وہاں تک روشنی ہے نقشِ پا کی جہاں پہنچے کوئی نوری نہ خاکی وفا نا آشناؤں نے جفا کی مگر […]

بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے

کہ تکمیلِ ثنا ممکن نہیں ابنائے آدم سے ترے چہرے کے آگے اور سب چہرے ہیں مدھم سے ترا پیکر ہے موزوں تر حسینانِ دو عالم سے تیری سیرت بتائیں ہم کوئی پوچھے اگر ہم سے کہ وہ تو ہو بہو ملتی ہے قرآنِ مکرّم سے سکونِ دل میسّر ہو جو گیسوئے منظّم سے پریشاں […]

آئینہ دل کا ہے پھر چہرہ نمائے صدیقؓ

پھر عقیدت کو ہوا شوقِ ثنائے صدیقؓ قابلِ رشک ہے تقدیرِ رسائے صدیقؓ ہے نبوت کی زباں مدح سرائے صدیقؓ جو پیمبر کی نوا وہ تھی نوائے صدیقؓ جو پیمبر کی رضا وہ تھی رضائے صدیقؓ تھی سکوں بخش پیمبر کو لقائے صدیقؓ اللہ اللہ وہ کیا ہو گی ادائے صدیقؓ اپنے کاندھوں پہ محمد […]

مرا نبی

وہ آمنہ کے جگر کا ٹکڑا وہ بی حلیمہ کا دست پرور وہ بندہ پرور غریب پرور تمام اہلِ جہاں کا سرور وہ افتخارِ ہر ابنِ آدم , زہے مقدر مرا نبی ہے وہ جس کی صورت پہ حسن قرباں وہ جس کی سیرت ہو عین قرآں وہ جس کے اوصاف ہیں ستودہ کہ جس […]

میرا نبی وہ ہے کہ محمد کہیں جسے

حسن و جمال وہ ہے کہ بس دیکھتا رہے رعب و جلال وہ ہے کہ دیکھا نہ جا سکے سیرت وہ مرحبا ہے کہ قرآن ہی لگے اوصاف اس قدر کہ ہیں دفتر بھرے پڑے میرا نبی وہ ہے کہ محمد کہیں جسے شمعِ ہدیٰ ہے چاروں طرف اس کی ہے ضیا وہ جلوہ گاہِ […]

(سلام) نورِ چشمِ آمنہ اے ماہِ طلعت السلام

نورِ چشمِ آمنہ اے ماہِ طلعت السلام مظہرِ حسن و کمالِ دستِ قدرت السلام شہریارِ تختِ اقلیمِ نبوت السلام اے مہِ انور بہ گردونِ رسالت السلام پاک طینت خوبصورت نیک سیرت السلام پیکرِ اخلاقِ اعلیٰ بدرِ رحمت السلام حق نما اے آئنہ دارِ حقیقت السلام کامل المعیار در فصلِ امانت السلام صادق الاقوال میزانِ صداقت […]

ثنا خوانِ محمد پتّہ پتّہ ڈالی ڈالی ہے

کہ خود توصیف اس نے کی ہے جو گلشن کا مالی ہے تری صورت خدا نے نور کے سانچے میں ڈھالی ہے ترا اخلاق اونچا ہے ترا کردار عالی ہے تیری سیرت مطہر ہے، منوّر ہے، نرالی ہے تری تعلیم پاکیزہ ترا اسوہ مثالی ہے سرِ عرشِ بریں پہنچی ہوئی وہ ذاتِ عالی ہے شبِ […]

شعور و عقلِ بشر کی عیاں ہے مجبوری

ثنائے سرورِ عالم ہو کس طرح پوری ہے دور شہرِ مدینہ تو یہ ہے مجبوری پر اس کی یاد میں حائل نہ ہو سکے دوری خجل ہو ماہِ منوّر وہ چہرۂ نوری وہ بوئے زُلفِ دوتا ہے کہ ہیچ کستوری فروغِ نور سے منظر ہے دیدنی دل کا جب ان کی یاد کی جلتی ہو […]