غمِ زمانہ جو دل سے بنا کے بیٹھ گیا

میں دل اٹھائے مدینے میں جا کے بیٹھ گیا نظر اٹھی جو مدینے کے تاجِ خضرٰی پر تو حرف حرف دعا کا دبا کے بیٹھ گیا کہا گیا مجھے اپنی کتاب پڑھنے کو اُٹھا میں حشر میں، نعتیں سنا کے بیٹھ گیا سلام اُس کے مقدر کو عرش والوں کا جو آستاں سے ترے لو […]

ان کی چوکھٹ پہ جھکانا ہے جبینِ دل کو

رشکِ فردوس بنانا ہے زمینِ دل کو یثربِ دل کو مدینے میں بدل ڈالا ہے دل کے سجدوں کی سلامی ہو مکینِ دل کو عقل کی آنکھیں بھلا کیسے وہ مکھڑا دیکھیں پردہِ عشق میں رکھا ہے حسِینِ دل کو لمحہ بھر میں وہ چلے آتے ہیں سن کر عرضی ٹوٹنے دیتے نہیں آقا یقینِ […]

کرتی ہے تسلسل سے اندھیروں کا سفر رات

تب جا کے کہیں تکتی ہے تنویرِ سحر رات چھا جائے رخِ تازہ سحر پہ بھی اداسی عشّاق کی آہوں کو چھپائے نہ اگر رات یہ وقت ہے میلادِ شہِ کون و مکاں کا چل کفر کے چوراہے سے پل بھر میں اتر رات ! کچھ ایسی محبت کی ضیاء دیجئے مجھ کو کر پائے […]

کیوں پھرتی ہے کھولے ہوئے بالوں کو بھلا شام

مانگا کرے شامِ درِ طیبہ کی دعا شام ڈوبے ہیں کئی اِس کے تبحُّر میں زمانے تکتی ہے ترے گیسوئے خمدار کو کیا شام ؟ غم ہائے زمانہ میں تسلّی کا سبب ہے وہ قافلہِ درد جو کربل سے چلا شام دل شامِ درِ یار کا عاشق ہے، سو خوش ہے تو اپنی طبیعت کا […]

چہرہ ہے کہ بے داغ جواں صبحِ فروزاں

خود بن گئی حیرت کا جہاں صبحِ فروزاں فیضان رساں ہیں تری آنکھیں ، ترے عارض اور تشنہ لباں آبِ رواں ، صبحِ فروزاں یہ فیصلہِ غوطہ زنِ بحرِ ادب ہے سرکار کہاں اور کہاں صبحِ فروزاں یہ اُن کے تبسم کی فقط ایک جھلک ہے کہتے ہیں جسے آپ مِیاں ! صبحِ فروزاں شبنم […]

شاعر لکھنوی کا یوم پیدائش

آج اردو کے صاحب طرز شاعر ‘شاعر لکھنوی’ کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 16 اکتوبر 1917ء – وفات: 23 ستمبر 1989ء) —— شاعر لکھنوی (محمد حسن پاشا) لکھنؤ کے روایتی انداز شاعری سےالگ ہٹ کر اپنی شاعری کے لئے نیا انداز وضع کرنے کے سبب جانے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے فرمان فتح پوری نے […]

حضور آپ ہیں خِلقت کا اوّلیں مطلع

ابھی خیال سے گزرا ہے یہ حسِیں مطلع خیال پاک ہو آنکھوں سے اشک جاری ہوں تو پھر مدینے سے آتا ہے بالیقیں مطلع مرے نبی کے نشانِ قدم کا شیدا ہے افق پہ چاند ستاروں کا دلنشیں مطلع ابد ہے مقطعِ شانِ نبی کا متلاشی ازل مقامِ محمد کا بہتریں مطلع حضور بولے کہ […]

تمام حمد اسی قادرِ عظیم کی ہے

وہ جس کے کُنْ میں ہیں تخلیقِ کائنات کے راز وہ جس نے سارے اندھیروں کو نور بخشا ہے جو اس کی شانِ کریمی پہ مان رکھتا ہے مرے خدا نے پھر اُس کو ضرور بخشا ہے تمام حمد اُسی خالقِ قدیم کی ہے کوئی بھی چیز کہ جس کو وہ پیدا کرتا ہے خلاف […]

جس میں ہو تیری رضا ایسا ترانہ دے دے

اپنے محبوب کی نعتوں کا خزانہ دے دے شہرِ مکّہ میں مجھے گھر کوئی مِل جائے یا پھر شہرِ طیبہ کی مجھے جائے یگانہ دے دے اُن کی نعلین کروں صاف یہی حسرت ہے ربِّ عالم مجھے اِک ایسا زمانہ دے دے نوکری تیری کروں آئینہ کرداری سے اُجرتِ خاص مجھے ربِّ زمانہ دے دے […]

قائم مرا بھرم رہے اللہ کے نام سے

دل ضو فشاں رہے فقط اُس کے کلام سے ’ قائم کرو نماز ، اطاعت مری کرو ‘ حکمِ خدائے پاک ہے ہر خاص و عام سے اِک دائرے میں شمس و قمر چل رہے ہیں کیوں یہ بات پوچھ خالقِ ہر صبح و شام سے رب نے نماز میں ہیں کمالات رکھ دیے ہر […]