بلا سبب تو نہیں ہے کھلا دریچۂ خیر
صبا نے دل کو سنایا کسی کا گفتۂ خیر ریاضِ جاں میں انہی سے کھلے ہیں خیر کے گل دل و نگاہ انہی سے بنے حدیقۂ خیر بچھا کے بیٹھے ہیں آنکھیں کہ ہو گا ان کا گزر چمک رہا ہے امیدوں سے دل کا خیمۂ خیر گزر رہی ہے جو بادِ نسیم دھیرے سے […]