یزیدیوں نے نہ پانی کی بوند دی ان کو
نہ جانے شدت گرمی میں پیاس تھی کتنی ستم ہوئے تھے جو آل نبی پہ کربل میں وہ داستانِ الم دل خراش تھی کتنی
معلیٰ
نہ جانے شدت گرمی میں پیاس تھی کتنی ستم ہوئے تھے جو آل نبی پہ کربل میں وہ داستانِ الم دل خراش تھی کتنی
کربل بسا گیا ہے نواسہ رسول کا سردار ہے جوانوں کا سارے بہشت کے پررچم بلند کر گیا دینِ رسول کا
چوم کر ماتھا بلائیں لیں تری پیارے رسول زوجۂ خیبر شکن، خاتون جنت السلام حاضری کی التجا ہو وارثیؔ کی اب قبول
نور نظر خدیجۂ کبریٰؓ کی ہیں فاطمہؓ کنبہ تمام جس نے کیا دین حق کے نام ماں اس شہید کرب و بلا کی ہیں فاطمہؓ
آج اردو ادب کے اچھوتے افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 11 مئی، 1912ء- وفات: 18 جنوری، 1955ء) —— سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری, امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ منٹو 11 مئی 1912کو موضع […]
مدحتِ خاتم الانبیا کیجیے ذکر قرآن میں جا بجا آپ کا ہر گھڑی کیجیے ہر جگہ کیجیے
در حبیب پہ سر کو جھکا لیا میں نے ملا ہے فیض زمانے کو جن کی نسبت سے انہیں ہی وارثیؔ دل میں بٹھا لیا میں نے
کرنے اظہار چلے دل کے وہ ارمانوں کا رحمتیں بٹتی ہیں بن مانگے ہی ان کے در پر مان رکھ لیتے ہیں سرکار ثنا خوانوں کا
جھک جائے جبیں سامنے جب آپ کا در ہو اس طرح سنواروں میں وہاں جا کے مقدر اشکوں کی روانی ہو لگا جالی سے سر ہو
حشر میں آپ کہیں گے کہ یہ سب میرے ہیں مالکِ ارض و سما کا ہے یہ فرمانِ صریح ’’کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں‘‘