نہیں دنیا میں اس سے بڑھ کے کوئی بھی دوا دلکش
تیرے تلووں کو جو چھولے بنے خاکِ شفا دلکش زمانے میں نہیں ہے وارثیؔ اس کا کوئی ثانی مرے آقا تری گلیوں کی ہے آب و ہوا دلکش
معلیٰ
تیرے تلووں کو جو چھولے بنے خاکِ شفا دلکش زمانے میں نہیں ہے وارثیؔ اس کا کوئی ثانی مرے آقا تری گلیوں کی ہے آب و ہوا دلکش
میرے دیوانے بتا کیوں اس قدر ناشاد ہو ہو ٹھکانہ آخری قربِ نبی میں وارثیؔ روح جب اس زندگی کی قید سے آزاد ہو
کروں مدحت نہ کیوں آقا کی میں اس کے تشکر میں رہے وردِ درود پاک لب پر وارثیؔ ہر دم وسیلہ یہ ہی کام آئے گا عاصی اپنے محشر میں
ہیں چین میرے دل کا تو آنکھوں کا نور ہیں ملتا ہے بے طلب ہی درِ مصطفیٰ سے فیض باتیں دلوں کی جانتے میرے حضور ہیں
زندگی کس قدر حسیں ہوتی بھول جاتا غمِ زمانہ کو واں ہی مرقد کی گر زمیں ہوتی
حسنِ سرکار پہ کچھ بات کرو لب پہ جاری رہیں نغماتِ درود چشم نم کر کے مناجات کرو
کام بنتے ہیں سارے توبہ سے دو وسیلہ نبیِ رحمت کا درد بٹتے ہیں سارے توبہ سے
تبھی تو نامِ محمد زباں پہ جاری ہے کسے ہے وارثیؔ فرصت غمِ زمانہ کی ابھی تو نامِ محمد زباں پہ جاری ہے
قربِ نبی کی یادوں کو دل میں بسا کے لا تڑپت دلِ حزیں ہے ملے اذنِ حاضری ’’نسیم تھوڑی سی خوش بو چرا کے لا‘‘
پھر آج حرمتِ آقا پہ گفتگو کی جائے جو چاہو وارثیؔ قسمت تری بدل جائے درِ حبیب پہ جا کر یہ آرزو کی جائے