نظر مصطفیٰ دی لٹوندی نہ مستی مئے خار کتھے میخانے نہ ہوندے

نہ درداں دے لبھدے کدی وی خزانے محمد دے جگ تے دیوانے نہ ہوندے نہ بلبل نہ پھل نہ چمن ہوندا کوئی بھلا اس فضا نوں کدوں خشبو لبھدی ہلارے جے زلفاں دے کنڈل نہ لیندے کدی وی ایہ موسم سہانے نہ ہوندے نہ عیباں دا اڈا کدی بن دا طیبہ فرشتے نہ راہ تے […]

عرشی تے فرشی کہون وارے نیارے ہوگئے

عرشی تے فرشی کہون وارے نیارے ہو گئے مصطفیٰ نوں ویکھیا حق دے نظارے ہو گئے آپ دی انگلی تے انبر وی فدا اے ہو گیا رقص وچ آیا قمر حیران تارے ہو گئے ہوگئے قربان تیرے مکھ توں اکھر سوہنیا زلف دے قیدی کنائے، استعارے ہو گئے حال وچ اونی خدائی حال میرا ویکھ […]

نبی جے کرم دی نگاہواں نہ کر دے

ایہ ٹونے تے دارو شفاواں نہ کر دے وفا دا نہ جگ تے کوئی نام ہوندا جے لجپال میرے وفاواں نہ کر دے نہ حبشی دے ورگے کدی ہوندے زندہ جے محبوب ناویں اداواں نہ کر دے کدی جگ دے شاہ نہ قدم آ کے چمدے فقیراں نوں آقا عطاواں نہ کر دے ایہ جامی […]

یہ قرعۂ افتخار یثرب کے نام نکلا

وداع کی گھاٹیوں سے ماہِ تمام نکلا زمین ماں ہی نہیں ہے،خود بھی صحابیہ ہے یہ رشتہ دو نسبتوں سے ذوالاحترام نکلا جو ان پہ اترا، بشر سے ممکن کہاں تھا لیکن خود ان کے لب سے بھی کیسا کیسا کلام نکلا یہ لوگ دیں پر نہیں اُن آباء پہ مفتخِر ہیں کہ جن کا […]

ہے تصور میں عہدِ نبی سامنے، اس زمانے کے پل جگمگاتے ہوئے

آنکھ کے سامنے ہیں مناظر بہت، چلتے پھرتے ہوئے، آتے جاتے ہوئے ایک چادر کو تھامے ہوئے ہیں سبھی ، چاہتے ہیں سبھی آپ سے منصفی آپ کے دستِ فیصل میں سنگِ سیہ سب قبیلوں کا جھگڑا مٹاتے ہوئے عتبہ ابن ربیعہ ہے بیٹھا ہوا ،صحنِ کعبہ میں ہاتھوں کو ٹیکے ہوئے اور نبی اس […]

ایک برقی رو لہکتی ہے مرے احساس میں

جلوہ فرما تو ہے میرے پردۂ انفاس میں کیوں نہ مل جائے اُسے لَا تَقْنَطُوْا کی پھر نوید جب اُتر آئے کرم تیرا نگاہِ یاس میں کیوں نہ بن جائے ہماری زندگی بھی اِک مثال یاد تجھ کو گر رکھیں خُوش حالی و افلاس میں تو ہویدا ہے اگر عُسرت زدوں کی آہ سے بس […]

حمدِ بے حد ہے سزاوارِ خدائے دو جہاں

جس کا ذکرِ پاک ہے وجہِ قرارِ قلب و جاں انضباطِ کائنات اِک حرفِ کُن سے کر دیا انبساط و غم کا خالق کون ہے اس کے سوا آگ کو حدّت عطا کی ہے ، روانی آب کو پھول کو رنگت تو نزہت گلشنِ شاداب کو اُس کے جلووں کا ہے مظہر یہ جہانِ کن […]

رواں ہے کاروانِ رنگ و بُو سرکار کے دم سے

دو عالم کی رگوں میں ہے لہو سرکار کے دم سے من و تو کی ہے گنجائش کہاں، سب کچھ اُنھی سے ہے کہ میں سرکار کے دم سے ہوں، تو سرکار کے دم سے مرے آئینہِ دل میں ہے عکسِ ذات ضو افگن میں ہوں ہر دم خدا کے رُوبرُو سرکار کے دم سے […]

آرزوئے دید میں آخر اثر اتنا تو ہو

وادیٔ بطحا میں جا پہنچے بشر ، اتنا تو ہو سرنِگوں ہوں اُن کے آگے کج کلاہانِ جہاں شاہ دیں کے خادموں کا کرّوفر اتنا تو ہو ذکرِ آقا میں خیال آئے جُونہی اعمال کا آستیں اشکِ ندامت سے ہو تر ، اتنا تو ہو نزع کی حالت میں میرے لب پہ ہو نامِ حضور […]

جس کی نظروں میں زرِ پائے پیمبر چمکے

سامنے اُس کے نہ گنجینۂ گوہر چمکے بخت ذرّے کے جو یاور ہوں ، عرب تک پہنچے خاکِ طیبہ سے لگے، مہر سے بڑھ کر چمکے رُوبُرو گنبدِ خَضرا کے پہنچ جاؤں اگر مجھ زیاں کار کا بھی نقشِ مقدّر چمکے ذہن میں دشتِ مدینہ کا تصوّر آیا پُھول اُلفت کے مِری شاخِ نظر پر […]