میرے اندر بھی اندھیرا ہے بہت
روشنی ! اے روشنی ! میری طرف
معلیٰ
روشنی ! اے روشنی ! میری طرف
فرق آ جائے گا لیکن دوستوں کے درمیاں
دستِ بے توقیر میں ہیرے کا ٹکڑا کچھ نہیں
اے کہ تیری ذات ہے وجۂ نمودِ کائنات تو نہ تھا تو محفلِ کون و مکاں بے رنگ تھی تو نہ تھا تو بزمِ ہستی سازِ بے آہنگ تھی حسنِ فطرت میں ابھی ذوقِ خود آرائی نہ تھا عشق ابھی تک دشمنِ صبر و شکیبائی نہ تھا تلخیٔ حق سے ابھی ناآشنا گفتار تھی عقلِ […]
یوں دیکھتا ہوں جیسے کوئی چیز کھو گئی
کس کو اپناؤں ، کسے راہ کا پتھر جانوں
ترے حق میں ظالم دعا ہو رہی ہے
بُوئے گُل کہاں ٹھہرے ، کس طرف صبا جائے ؟
کمال یہ ہے کہ بیٹھے ہیں سب کگاروں پر
جنوں کے دور کا کیا اعتبار ہے ساقی یہ لال لال سی شے جو بھری ہے مینا میں علاجِ گردشِ لیل و نہار ہے ساقی