ہم صوفیوں کا دونوں طرف سے زیاں ہوا
عرفانِ ذات بھی نہ ہوا ، رات بھی گئی
معلیٰ
عرفانِ ذات بھی نہ ہوا ، رات بھی گئی
کچھ دے دلا کے حال کو ماضی بنا دیا
اس حادثے نے ہم کو نمازی بنا دیا
میں لگا پتھر کو پہلے ، پھر مجھے پتھر لگا
ہاں لوگ ہی ایسے تھے کہ آباد نہیں تھے
ذریعہ خود نکل آتا ہے منزل تک رسائی کا
حیدرؔ فقیر گوشہ نشیں تھا ، غیور تھا
اب ہاتھ میں ہوں دامنِ صحرا لیے ہوئے
یہ دونوں پستیاں ہیں میں ان سے بلند ہوں
آج اردو کے نامور مزاح نگار‘ شاعر اور صحافی جناب شوکت تھانوی کا یوم پیدائش ہے (2 فروری 1904ء – 4 مئی، 1963ء) —— پاکستان کے اردو کے نامور مزاح نگار‘ شاعر اور صحافی جناب شوکت تھانوی کی تاریخ پیدائش 2 فروری 1904ء ہے۔ جناب شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا اور وہ […]