میں تو حضور آپ کے دامن میں چھپ گیا
اب گردشِ حیات مجھے ڈھونڈتی رہے
معلیٰ
اب گردشِ حیات مجھے ڈھونڈتی رہے
اسی جانِ جہاں سے ملتی ہے جو بھی نعمت ہے دو جہانوں کی ایک ہی آستاں سے ملتی ہے وہ سبھی کے نبی ہیں اس کی سند ہر زمان و مکاں سے ملتی ہے سبز گنبد کی رفعتیں اللہ ایک حد لامکاں سے ملتی ہے اب ہمارے چمن میں ہے وہ بہار جس کی صورت […]
یہ وہ اڑتے ہوئے بادل ہیں جو سایا نہیں کرتے
اکثر ہوئی مشیت مجبور آدمی سے
حق ، حق ہے تو ہر حال میں اظہار کیا جائے
ہم تو وہ کونپل ہیں جو پتھر سے نکلے ہیں
ہم کو ہمارے دیدۂ بینا سے کیا ملا
اک نسل مطمئن ہے مگر اک اداس ہے
میرے لیے تو بادِ صبا ہو گیا وہ شخص
یہ زباں میری نہیں ہے نہ یہ لہجہ میرا