خود سر تھے جس قدر سرِ منزل پہنچ گئے
ہم آج تک ہیں راہ میں رہبر لیے ہوئے
معلیٰ
ہم آج تک ہیں راہ میں رہبر لیے ہوئے
اُبھارا کس لیے دنیا میں تو نے ذوقِ عصیاں کو
اک عمر اسی راہ میں برباد رہیں گے
کوششِ ضبط پہ بھی آہ نکل جاتی ہے پھر پلٹ کر نہیں آتی یہ سمجھ لے پیارے دل سے اک بار اگر چاہ نکل جاتی ہے
عزمِ بلند و ہمتِ مردانہ چاہیے
ہائے کیا زندگی ہماری ہے
خزاں گئی ہے فصلِ بہار آئی ہے
لیکن تمہاری یاد ہے دل میں بسی ہوئی
اللہ نہ دکھائے مجھے لاہور کی گرمی
وہ وقت بھی آئیگا مجھے یاد کرو گے