مٹ چلے ہیں دل سے کچھ کچھ داغ ہائے آرزو
پھر چمک اٹھیں نہ اس ظالم کو ہنستا دیکھ کر
معلیٰ
پھر چمک اٹھیں نہ اس ظالم کو ہنستا دیکھ کر
لیے بیٹھا ہے متاعِ غمِ پنہاں کوئی فکرِ پوشیدگیِ راز میں ہیں دیوانے سی رہا ہے کوئی دامن تو گریباں کوئی
وہ بھی غریب دل کی طرح بے زبان ہے
دلِ مرحوم یاد آتا ہے اس کی محفل میں یارب ہے دل شاد جاتا ہے ، شاد آتا ہے
ملا نہ نخلِ وفا کا کہیں سراغ مجھے
مجھ میں میرا کچھ نہیں ہے ، اے خدائے مصطفیٰ
یہ حُسنِ احتیاط ایک امتزاجِ دین و دنیا ہے
نعمت گر نہیں تو منعم و مزدور یکساں ہے
شہیدِ کربلا ہے تیرا ورثہ دار کیا کہنا
تری سیرت بنانے کو اُٹھایا بار صورت کا