نخلِ امید کو یوں سینچ رہا ہے کوئی
دستِ نازک میں محبت کا اثر ہو جیسے
معلیٰ
دستِ نازک میں محبت کا اثر ہو جیسے
وہ غم بھی مرے واسطے سوغات میں آئے
رکھا جہاں قدم ، اُسے صحرا بنا دیا
بیٹھے ہوئے تھے وہ دلِ خانہ خراب میں
وہ حسنِ اتفاق سے منصور ہو گئے
اُس دن سے دوستو بڑے آرام سے رہے
کاٹے ترے بغیر جو غربت میں چار دن
مولا ہر شے تجھ پہ قربان ہے سارے نبیوں میں رتبہ ہے بالا ترا اور سب سے بڑا تو ہی انسان ہے تجھ کو پڑھ کر بسر زندگی ہم نے کی جس کے قاری ہیں ہم تو وہ قرآن ہے تو نے بخشش کی منزل دکھائی ہمیں ترا ممنون ہر اک مسلمان ہے تیرے روضے […]
ہر سانس مہکنے لگتی ہے تابندہ جبیں ہو جاتی ہے جب صحن چمن میں جا کر میں کھلتی کلیوں کو دیکھتا ہوں مرے گرد و پیش کی ساری فضا فردوس بریں ہو جاتی ہے جو مانگتا ہوں ترے در سے وہ ملنے میں اگر کچھ دیر بھی ہو اٹھتے ہیں دعا کو ہاتھ جہاں تسکین […]
خود بخود میری زبان پر ذکر سرور آئے گا دیکھنا ہے سایہ احمد تو دیکھو عرش پر آسماں کا سایہ آخر کیوں زمیں پر آئے گا مجھ کو نسبت ہے محمد سے ، نہیں دنیا کا خوف مجھ سے ٹکرائی تو گردش کو بھی چکر آئے گا تیرگی کو کاٹ دے گی جنبشِ نوکِ قلم […]