میں اگر لازوال ہو جاتا
میرا جینا محال ہو جاتا آئینہ سامنے نہ تھا ورنہ وہ مرا ہم خیال ہو جاتا مجھ سے اپنا ضمیر بک نہ سکا ورنہ آسودہ حال ہو جاتا مجھ کو حسرت رہی کہ دنیا میں کوئی تو ہم خیال ہو جاتا وہ تو کہیے تری مثال نہ تھی ورنہ میں بے مثال ہو جاتا
معلیٰ
میرا جینا محال ہو جاتا آئینہ سامنے نہ تھا ورنہ وہ مرا ہم خیال ہو جاتا مجھ سے اپنا ضمیر بک نہ سکا ورنہ آسودہ حال ہو جاتا مجھ کو حسرت رہی کہ دنیا میں کوئی تو ہم خیال ہو جاتا وہ تو کہیے تری مثال نہ تھی ورنہ میں بے مثال ہو جاتا
کہ یوں لگتا ہے جیسے حسن کی تفسیر کرتا ہوں کسی کی بھی کبھی تقلید بھولے سے نہیں کرتا جو کچھ دل پر گزرتا ہے وہی تحریر کرتا ہوں پریشاں میں رہوں دنیا پریشانی سے بچ جائے ٹھہر اے گردشِ دوراں تجھے زنجیر کرتا ہوں مری تقدیر کے لکھے پہ دنیا خندہ زن کیوں ہے […]
لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں گزر جاتے ہیں
صد شکر کہ مجھ پر کوئی الزام نہیں ہے
وہ کون شخص تھا جسے دیکھا تھا خواب میں
راس آئے یا نہ آئے یہ قسمت کی بات ہے
ایسے بھی کچھ درخت مسافر نواز ہیں
یہ کس منزل میں لے آئیں مجھے گمراہیاں میری
تن ڈھانپوں تو پیٹ ہے خالی ، پیٹ بھروں تو ننگا ہوں
میرا انجام نئے دور کا آغاز بھی ہے