بند ایسے بھی نہ ذہنوں کے دریچے رکھو
کچھ نہ کچھ رابطہ باہر کی ہوا سے رکھو
معلیٰ
کچھ نہ کچھ رابطہ باہر کی ہوا سے رکھو
ظاہر کبھی غربت کے مفاہیم نہ کرنا
خیال یہ ہے کہ عزت سے مر کے دیکھتے ہیں
میداں میں مری گود کے پالے نکل آئے
یارو انہیں کے ہاتھ سے پتھر لگے مجھے
ڈوبی ہوئی کشتی کو ابھرنا نہیں آتا ہر گام پہ ہوتا ہے گماں حدِ عدم کا شاید مجھے دنیا سے گزرنا نہیں آتا
ہزاروں زرنگار آنچل تصور میں جھلکتے ہیں
ورنہ یہ گل کدہ بیگانۂ رعنائی ہو
ترکشِ ناز میں کیا اور کوئی تیر نہیں
صبحِ بہار کے لیے شرطِ شب دراز ہے