جھلک پیدا ہوئی شورِ جرس میں نوحہ خوانی کی
حدودِ عشق میں داخل ہوا جب کارواں میرا
معلیٰ
حدودِ عشق میں داخل ہوا جب کارواں میرا
ہے کس کی آستین میں خنجر ، تلاش کر
جنوں سے ملتے تو دریا تلاش کر لیتے
قاتل کو اپنا زخم دکھانے سے فائدہ
خرد ہے سنگ بداماں نہ جانے کب کیا ہو
مگر رہبر کی نیت ہی بدل جائے تو کیا کیجیے
اور اُس کو بانٹ دو لوگوں میں حوصلہ کر کے
سُن کے آئے تھے یہاں لعل و گُہر ملتے ہیں
رنج و الم کی سخت چٹانوں کو کیا کروں
اہلِ خرد سے کچھ نہ بنا ، تو پتھر لے کر دوڑ پڑے