سکونؔ اس کا وہ رسماََ ہی مسکرا دینا
غمِ حیات کی ساری تھکن اتار گیا
معلیٰ
غمِ حیات کی ساری تھکن اتار گیا
تیرے لبوں کو کبھی پنکھڑی کو دیکھتے ہیں اگرچہ بزم میں بیٹھے ہیں خوش جمال کئی سب اہلِ بزم مگر اک اُسی کو دیکھتے ہیں
ایمان بک بھی جائے تو پیسہ بنائیے
اک غم نصیب شخص کے دامن میں ڈال دے
کہ دکھ کسی کا ہو لگتا ہے ہو بہو میرا
ہمیں تو اوروں کے دکھ بھی نڈھال رکھتے ہیں
آج معروف شاعر ساقی امروہوی کا یوم وفات ہے (پیدائش: 1925ء – وفات: 12 دسمبر 2005ء) —— نام سید قائم رضا اور تخلص ساقیؔ تھا۔ 1925ء کو اترپردیش کے امروہہ شہر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید علی قاسم اور دادا سید علی اسلم جاگیردار تھے۔ ساقی امروہوی کے والدین کی خواہش تھی کہ […]
شاعر ہوں مجھ کو شعر و سخن میں کمال دے اس کے سوا نہیں ہے طلب کچھ سکون کی اک آگہی جو قلب و نظر کو اجال دے
تیرا پتا ملا ہے نہ تیرا پتا ملے میں خاک میں ملوں تو کہیں کچھ پتہ چلے نقشِ قدم بنوں تو ترا نقشِ پا ملے تم مجھ سے آ ملے کبھی دشمن سے جا ملے جب یہ مزاج ہے تو کوئی تم سے کیا ملے بعد فنا بھی خیر سے تنہا نہیں ہیں ہم بندوں […]
وفا کی قدر کرتے ہیں وفا کے جاننے والے تری تیغ ادا کھنچتے ہی اپنی جان جاتی ہے قضا سے پہلے مرتے ہیں قضا کے جاننے والے بھری ہیں شوخیاں لاکھوں تری نیچی نگاہوں میں ہمیں ہیں کچھ تری شرم و حیا کے جاننے والے مری فریاد سن کر کچھ انہیں پروا نہیں ہوتی نڈر […]