اُن کو تو ہم نے چاہا وہ یوں ستا رہے ہیں
اے چرخ کینہ پرور تو کیوں ستا رہا ہے؟ کوچے میں دشمنوں کے ہم اور سجدہ کرتے نقشِ قدم کسی کا سر کو جُھکا رہا ہے
معلیٰ
اے چرخ کینہ پرور تو کیوں ستا رہا ہے؟ کوچے میں دشمنوں کے ہم اور سجدہ کرتے نقشِ قدم کسی کا سر کو جُھکا رہا ہے
جس پہ سایہ ہے تیرے کوچے کی دیواروں کا
کوئی دامن نہ پکڑ لے سرِ محشر دیکھو اُن کو دشمن سے جو اُلفت ہے پروا نہ کرو اے رساؔ تم بھی کسی اور پہ مر کر دیکھو
حشر سے پہلے ہی اک محشر بپا ہونے لگے
اگر مرضی تری اے کاتب تقدیر ایسی ہے بوقتِ ذبح قاتل کا بڑھایا دل یہ کہہ کر کہ تُو قاتل ہے ایسا اور تری شمشیر ایسی ہے
سیکھو ابھی طریقے کُچھ روز دلبری کے آئے اگر قیامت تو دھجّیاں اُڑا دیں پھرتے ہیں جستجو میں فتنے تری گلی کے
چیز رکھتا ہوں بھول جاتا ہوں
محمد ہی دل ہے ، محمد ہی جاں ہے دلارے محمد کا ذکر و تصور قرارِ نگہ ہے ، سرُورِ زباں ہے یہاں آ گیا جو ، یہیں کا ہوا وہ محمد کی محفل کا ایسا سماں ہے احاطہ ہے کرتا یہی زندگی کا محمد کا کتنا سنہرا بیاں ہے کسی اور حاجت نہیں مجھ […]
وہ تیرا بھی ہے ، وہ میرا بھی ہے جس کے دامن میں خوشبو ہی خوشبو وہ اچھا بھی ہے ، وہ پیارا بھی ہے اپنوں کا اپنا ، وہ یاروں کا یار سب کی امیدوں کا یارا بھی ہے وہ دل کی ٹھنڈک اور آنکھوں کا نور وہ میری ہستی کا ملجا بھی ہے […]
محمد کے در سا کوئی در نہیں ہے برابر ہو کوئی جو میرے نبی کے زمیں پر کوئی ایسا رہبر نہیں ہے یہ جتنے بھی دنیا میں آئے نبی ہیں کوئی بھی محمد سے برتر نہیں ہے مرے مصطفیٰ کی ہدایت سے بڑھ کر ہدایت کسی اور کی بڑھ کر نہیں ہے نبی کا ہو […]