بنتا ہی نہیں تھا کوئی معیارِ دو عالم

اِس واسطے بھیجے گئے سرکارِ دو عالم جس پر ترے پیغام کی گرہیں نہیں کُھلتیں اُس پر کہاں کُھل پاتے ہیں اسرارِ دو عالم آ کر یہاں ملتے ہیں چراغ اور ستارہ لگتا ہے اِسی غار میں دربارِ دو عالم توقیر بڑھائی گئی افلاک و زمیں کی پہنائی گئی آپ کو دستارِ دو عالم وہ […]