اُسے کسی سے محبت نہ تھی مگر اُس نے
گلاب توڑ کے دُنیا کو شک میں ڈال دیا
معلیٰ
گلاب توڑ کے دُنیا کو شک میں ڈال دیا
دِیا جلانے کا مطلب ہے شام ہو چکی ہے
میں نے اک نام لکھا اور قلم توڑ دیا
نمودِ ثابتِ سیّار تک پہنچ گیا میں خدا تک اب مجھے سرکار لے کے جائیں گے خدا کا شکر کہ سرکار تک پہنچ گیا میں
ایک کردار بہتر سے نمودار ہوا حق کی پہچان ہوئی خلق کو آزرؔ اس وقت جب علی آپ کے بستر سے نمودار ہوا
خواب دیکھو تو زمانے سے الگ ہو جاؤ نیند میں حضرت یوسف کو اگر دیکھا ہے عین ممکن ہے گھرانے سے الگ ہو جاؤ
اور جو نہیں ہے اُس کی ضرورت نہیں مجھے
لیکن آواز گناہوں میں دبی جاتی ہے
اک قافلہ نکلا تھا مدینے سے ہمارا
اِس واسطے بھیجے گئے سرکارِ دو عالم جس پر ترے پیغام کی گرہیں نہیں کُھلتیں اُس پر کہاں کُھل پاتے ہیں اسرارِ دو عالم آ کر یہاں ملتے ہیں چراغ اور ستارہ لگتا ہے اِسی غار میں دربارِ دو عالم توقیر بڑھائی گئی افلاک و زمیں کی پہنائی گئی آپ کو دستارِ دو عالم وہ […]