ہر چند ہم نے یاد کیا چشمِ یار کو
لیکن پیالی چائے کی پھر بھی نہ مے ہوئی
معلیٰ
لیکن پیالی چائے کی پھر بھی نہ مے ہوئی
یار کے دل میں غبار آ ہی گیا
تنزل چاہتا ہوں میں ترقی ہوتی جاتی ہے
آہ ظالم نے مری اُلفت کا جھٹکا کر دیا
اور یونہی خواہ مخواہ کیے جا رہا ہوں میں جھڑتی ہیں ان کے منہ سے جو منظوم گالیاں سن سن کے واہ واہ کیے جا رہا ہوں میں
روزے سے ہوں اور نعت عطا ہونے لگی ہے توفیق ملی ہے جو کھلی سانس کی مجھ کو جتنی بھی گھٹن تھی وہ ہوا ہونے لگی ہے اے عجز ِ بیاں دیکھ ‘ ذرا حرف ِ رواں دیکھ یہ نعت جو آنکھوں سے ادا ہونے لگی ہے اے شافعِ محشر مری دھرتی پہ نظر کر […]
پھر تو یہ ساری عمر ہی قربان نعت ہے سچ یہ ہے ساری زیست ہی دیوان نعت ہے "ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے” تیری کُلاہِ فخر بھی پاپوش ہی تو ہے جوتے اتار ! دیکھ یہ ایوانِ نعت ہے رسمی مبالغوں کو پرے رکھ کے بات کر ثابت تو کر کہ ہاں مجھے […]
عجیب ہے یہ سمندر کہ ہے سفینے میں اسی زمیں اسی مٹی سے نور پُھوٹا تھا اسی دیار ، اسی رُت ، اسی مہینے میں ہے بند آنکھ میں بھی عکسِ مسجدِ نبوی جَڑا ہوا ہے یہی خواب اس نگینے میں کسی نے اسمِ محمد پڑھا تو ایسا لگا کہ جیسے کوئی پرندہ اُڑا ہو […]
وہ صبحِ منوّر مکّے کی ، وہ جگمگ رات مدینے کی عمّامہ سنہرے ریشم کا ، چادر نیلے پشمینے کی صحرا سے ندا سی آتی ہے راتوں میں مجھ کو جگاتی ہے یہ دل پر تھاپ کسی دَف کی یہ ہُوک کسی سازینے کی ان اونچے ٹیلوں کے پیچھے کوئی ہجر کا نغمہ گاتا ہے […]
سحر ہوئی تو مدینہ میں ہم اترنے لگے سیہ فراق کا چھلکا ہٹا، سحر پھوٹی سنہری دھوپ کھلی نخل جاں نکھرنے لگے گناہ تھا تو نہیں پر گناہ جیسا لگا جب اس زمین پہ ہم اپنے پاؤں دھرنے لگے وہ سنسناہٹیں تھیں کھنکھناتی مٹی کی کہ جیسے کوری صراحی میں پانی بھرنے لگے ہمارے پاس […]