شعور و عقلِ بشر کی عیاں ہے مجبوری
ثنائے سرورِ عالم ہو کس طرح پوری ہے دور شہرِ مدینہ تو یہ ہے مجبوری پر اس کی یاد میں حائل نہ ہو سکے دوری خجل ہو ماہِ منوّر وہ چہرۂ نوری وہ بوئے زُلفِ دوتا ہے کہ ہیچ کستوری فروغِ نور سے منظر ہے دیدنی دل کا جب ان کی یاد کی جلتی ہو […]