تھا جرمِ ضعیفی تو سزا طولِ شب و روز
جیسی مجھے بھرنی پڑی کرنی تو نہیں تھی
معلیٰ
جیسی مجھے بھرنی پڑی کرنی تو نہیں تھی
اک اور زاوئیے سے آسمان لگتا ہے
اب خیالِ سعیِ حاصل سعیِ لاحاصل میں ہے میرے دل میں ہے نہ وہ اغیار کی محفل میں ہے یاالہٰی اب مقامِ دوست کس منزل میں ہے وصل سے انکار اُن کو ، یاں تمنائے وصال واں وفا مشکل میں ہے ، یاں آرزو مشکل میں ہے اک قدم بڑھتا ہوں تو بڑھتی ہے منزل […]
پرچھائیوں سے کون و مکاں کس طرح بنے ناخن سے سینہ چیر لوں کچھ کہہ نہ پاؤں میں ناخن ہے تیز پھر بھی زباں کس طرح بنے
نشانی میں وہ آنکھوں سے تکلم کا ہنر دے گا
میں نے خود کو بھولنے میں ہنر ور کر لیا
وہ شہر ، مدینہ ہے مدینہ ہے مدینہ اُمیدِ کرم عرصۂ ہجراں میں ہے اُن سے ساحل پہ کسی طور لگا دیں گے سفینہ خوشبو سے گل و لالہ و ریحان و سمن کی بڑھ کر ہے مرے شاہِ اُمم تیرا پسینہ تلوؤں سے ترے پائی ضیا خاکِ حرم نے ہر ذرۂ طیبہ ہے تبھی […]
بردۂ شوق کی زندگی نعت ہے حُسنِ احمد کی مدحت ہے رشکِ سخن رشکِ نطق و بیاں آپ کی نعت ہے صدقۂ مصطفیٰ رنگ و نکہت سبھی لالہ و گل کی سب دلکشی نعت ہے باغِ مدحت میں ہی سانس لیتا ہوں میں میرے ایمان کی تازگی نعت ہے اس کی تفسیر ہے سیرتِ مصطفیٰ […]
دید کو حسنِ طرح دار ہی مانگے جائے سر خمیدہ ہے قلم اُس درِ اقدّس پہ میرا دولتِ مدحتِ سرکار ہی مانگے جائے نقشِ نعلینِ کرم بار پہ سر رکھنے کو بے خودی سنگِ درِ یار ہی مانگے جائے جذبۂ شوق مرا چشمِ بصیرت کے لیے خاکِ نعلینِ کرم بار ہی مانگے جائے اِس نے […]
میں مدینے میں ہوں خواب مسرور ہے کاسۂ حرف میں مدح کا صدقہ دیں رو بہ رو نعت کے نطق معذور ہے بے طلب ہی عطاؤں کے ہیں سلسلے دوست یہ شہرِ آقا کا دستور ہے ہجر کے شہر سے بارِ عصیاں لیے آپ کے در پہ آیا یہ رنجور ہے حبِ آلِ نبی ہے […]