یہ کیسی نعت ہے پھر کیسے التزام کے ساتھ

خدا کا نام بھی شامل ہے اُن کے نام کے ساتھ میں ایسی ذات کی مدحت کروں تو کیسے کروں خدا نے نام لیا جس کا احترام کے ساتھ سعادتِ بشری کا وہ اسمِ اعظم ہیں تمام عظمتیں منسوب اُن کے نام کے ساتھ درود لب پہ مرے ہو جب اُن کا نام آئے حضورِ […]

شبِ ازل دمِ اعجاز کُن فکاں تجھ سے

ضمیرِ ہست میں نقشِ طلسمِ جاں تجھ سے دھڑک رہا ہے اگر دل تو اِذن ہے تیرا حریمِ جاں میں جو گونجی ہے تو اذاں تجھ سے حطیمِ فکر جو روشن ہے تیرے نام سے ہے مرے دہن میں ہے گویا تو یہ زباں تجھ سے ترے سبب ہیں جزا و سزا کے سب قصے […]

ہنوز ایسے بھی انسان روزگار میں ہیں

کبھی سحر کے کبھی شب کے انتظار میں ہیں یہ راہ سوچ سمجھ کر ہی اختیار کریں وہ سوئے دار چلے ہیں جو کوئے یار میں ہیں کچھ ایسے لوگ ابھی تک چمن میں ہیں شاید فریب خوردہ خزاں میں نہ خوش بہار میں ہیں بہ فیضِ سوزِ دروں اور بطرزِ اہلِ جنوں وہی ہے […]

فردوس آب و گل کے نظاروں کا شوق ہے

چشموں کا رنگ و بو کا بہاروں کا شوق ہے انسانیت کے رِستے ہوئے زخم چھوڑ کر دانشوروں کو چاند ستاروں کا شوق ہے ہستی کی تلخیاں جو گوارا نہ ہو سکیں زندوں سے ہے نفور ، مزاروں کا شوق ہے