عدم میں کچھ نہ خبر تھی کہ کون ہوں کیا ہوں
کھلی جو آنکھ تو پہلی نظر اُسی سے ملی
معلیٰ
کھلی جو آنکھ تو پہلی نظر اُسی سے ملی
میں سمجھتا نہیں کیا کیا شہِ بطحا مانگوں ڈوبتے دل کے لیے سایۂ محرابِ حرم بجھتی آںکھوں کے لیے گنبدِ خضرا مانگوں اپنے جینے کے لیے مانگوں میں صحنِ کعبہ اپنے مرنے کے لیے خاکِ مدینہ مانگوں عشق میں آپ کے بہتے رہیں میرے آنسو میں وہ قطرہ ہوں کہ مانگوں بھی تو دریا مانگوں […]
ہر عبادت سے درود آپ کا اعلیٰ افضل آپ کے اسم سے ہیں لفظِ جہاں میں معنی ورنہ یہ دفترِ صد رنگ و نمو بس مہمل شفقتیں آپ کی ہر گوشۂ گیتی پہ محیط رحمتیں آپ کی دنیا پہ برستا بادل آپ کی دین سے دنیا کی شرف کو منزل ظلمتِ دہر میں ہیں آپ […]
ہم جہاں ڈھونڈتے وہیں ملتا وہ ہمیں کس لۓ نہیں ملتا ہر کہیں تھا تو ہر کہیں ملتا سب سے ملتا ہے سب کو ملتا ہے کون کہتا ہے وہ نہیں ملتا دل ہی میں اس کو جستجو ہوتی لطف جب تھا ہمیں یہیں ملتا تھی غرض ہم کو اس کے ملنے کی اس سے […]
ابتدا تو ہے انتہا تو ہے ایک جگنو سے لے کے سورج تک چشمۂ نور ہے ضیاء تو ہے تیری قدرت سے روز و شب کا ظہور ہر نظارے میں رونما تو ہے بحر و بر ہوں کہ آسمان و زمیں ہر طرف تو ہے جا بجا تو ہے ہے مناظر میں ترا عکسِ جمال […]
کہ چلتا ہے تو سر کے بل ہی چلتا ہے قلم میرا مجھے بھرنے دے سرد آہیں کہ شب بیدار فرقت میں اُڑاتی ہے عبث خاکا نسیمِ صبح دم میرا اذیت پاؤں تکلیفیں اٹھاؤں سختیاں جھیلوں مگر ٹھوکر نہ کھائے راہ میں تیری قدم میرا تری جاں بخشیوں پر بھی ہوں اپنی جان کا دشمن […]
بہہ گیا تو اشک ٹھہرا جم گیا تو دل ہوا
غرض اب اٹھ نہیں سکتی ، جہاں رکھدی وہاں رکھدی
اُٹھے جاتے ہیں وہ بھی جو یہاں دو چار بیٹھے ہیں
آج ممتاز شاعر، ادیب اور ماہر تعلیم محسن احسان کا یوم وفات ہے (پیدائش: 15 اکتوبر 1932ء – وفات: 23 ستمبر 2010ء) —— محسن احسان کا تعلق پاکستان کے صوبے خیبر پختون خواہ کے اُس قبیل سے تھا جنھوں نے صوبہ سرحد میں اردو ادب کی آبیاری میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ محسن احسان کا اصل […]