سچ کہا ہے غرض کی دنیا ہے
کوئی بے مطلب آشنا نہ ہوا
معلیٰ
کوئی بے مطلب آشنا نہ ہوا
نہ کیوں کر میرے مرنے پر وہ ظالم شادماں ہوتا
کوئی خاکہ ہے دامن کا ، کوئی نقشہ گریباں کا
یہ مصرفِ خیرات سمجھ میں نہیں آتا
تمہیں میری قسم اٹھنا ، ذرا تم بھی سنور جانا
مگر الفت تری اے دشمنِ جانی نہیں جاتی
کہ سجدوں کو جبیں کہیے ، جبیں کو آستاں کہیے
ڈال کر پردۂ شب ، رُوئے سحر دیکھ لیا اُس نے دل دیکھ لیا ، اُس نے جگر دیکھ لیا اپنا اپنا خلش و درد نے گھر دیکھ لیا شاملِ محفلِ جاناں ہوں یہ تقدیر کہاں کبھی اُس راہ سے گزرا تو اُدھر دیکھ لیا دیکھتے اور وہ کیا حالِ مریضِ وحشت جاں بلب دیکھ […]
یہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے جو مانگتے وہ ملے ایک عیش ہے کیا ہے خدا کے گھر میں کسی چیز کی کمی کیا ہے تم اپنے ہو تو نہیں غم کسی مخالف کا زمانہ کیا ہے ، فلک کیا ہے ، مدعی کیا ہے نثار کیجیے اس شکرئیے میں جانِ عزیز […]
تجھی سے ہر سانس آ رہا ہے تجھی سے ہر دل دھڑک رہا ہے تری توجہ سے موسموں کو ہُنر کی توفیق مل رہی ہے کہ بیج میں رزق اتر رہا ہے ، ہرا بھرا کھیت پک رہا ہے تری تجلی کے نور میں کائنات کو دیکھتی ہیں آنکھیں ہر ایک چہرے کا عکس تیرے […]