اے فوقؔ شاعری کو ادب سے سلام کر
صورت نکال جا کے کہیں روزگار کی
معلیٰ
صورت نکال جا کے کہیں روزگار کی
یہ بھی ہے ایک رحمتِ پیغمبرِ خدا دو طفل مردہ کر دئیے زندہ حضور نے معجز نما ہے دعوتِ پیغمبرِ خدا ہو گی ضرور امتِ سرور مقیمِ خلد مقبول ہے شفاعتِ پیغمبرِ خدا مقبولِ بارگاہِ الہیٰ ہے وہ بشر پائی ہے جس نے صحبتِ پیغمبرِ خدا ہر گل چمن میں طبلۂ عطار بن گیا پہنچی […]
پھر آج ان آنکھوں کو وضو کرنا ہے
اے آفتاب ! تیری تمازت کو کیا ہوا
گر کر بھی پر شکستوں کی ہمت نہ کم ہوئی
اے میرے وجود میں کہاں ہوں
مجھ کو ناکردہ گناہی کی قسم
تم خود کو بدل کر دیکھو تو حالات بدلتے جائیں گے
اور ظاہر میں کوئی بات اِدھر ہے نہ اُدھر
ننگِ برہنگی سے کفن پوش ہو گئے