آہنگ ہے کچھ اور رئیسؔ اہلِ طرب کا
اور سازِ شکستہ کی نوا اور ہی کچھ ہے
معلیٰ
اور سازِ شکستہ کی نوا اور ہی کچھ ہے
بہت احساس ہے تاہم نہیں ہے
تیرے لیے کہیں گے اگر بات ہو گئی
کیسے کیسے فریب دیتا ہے
جہاں زمان و مکاں ساتھ ساتھ بہتے ہیں
بجلیوں پہ کیا گذری میرے آشیانے سے
کچھ اسباب فراہم نہیں ہونے پاتے
یہ بھی قمار خانہ ، وہ بھی قمار خانہ
منزل کو گردِ راہِ سفر دیکھتا ہوں میں
کیا وہ بھی اسی صورت ہم کو اے جلوۂ جاناں دیکھیں گے