رئیسؔ اہلِ ہوس جس کو شبابِ زیست کہتے ہیں
وہ دنیا ہم نے دیکھی تو مگر کچھ سرسری دیکھی
معلیٰ
وہ دنیا ہم نے دیکھی تو مگر کچھ سرسری دیکھی
ان کا دامن بن گیا میرا گریباں ہو گیا
نگارِ صبح کو اب اذنِ رونمائی دے
جرم کا ہر اک نشاں قاتل کے گھر تک جائے گا
کون گاؤں سے ترے شہر میں آ کر خوش ہے
کوئی غم تو ہے اُسے جو رات بھر سوتا نہیں
اور کس کے بس میں یوں جاں سے گزرنا ، کھیلنا
کہ تجھ کو کھو کے میں کتنے بڑے عذاب میں ہوں
زنداں میں بھی نقش و نگار
غم کے پروردگار ہیں ہم لوگ